23 مئی، 2026، 10:21 AM

فی الحال ایٹمی مذاکرات نہیں، تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے، ایرانی وزارت خارجہ

فی الحال ایٹمی مذاکرات نہیں، تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے، ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ماضی کے تلخ تجربات کے پیشِ نظر ایران اب ایٹمی پروگرام پر غیر معقول مطالبات قبول نہیں کرے گا اور توجہ تمام محاذوں پر جنگ بندی پر مرکوز ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کی موجودہ پالیسی کا محور ایٹمی مذاکرات نہیں بلکہ تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ہے۔

اسماعیل بقائی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مرحلے پر ایٹمی پروگرام کی جزئیات پر بحث کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، کیونکہ ماضی میں فریق مخالف کی غیر معقول خواہشات اور زیادتیاں ہی کشیدگی کا سبب بنی ہیں۔ ایران دو بار ایٹمی مذاکرات کا تلخ تجربہ کرچکا ہے، اس لیے اب ہماری ترجیح ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے جس میں ایران کے مفادات اور سیکیورٹی خدشات کا تحفظ یقینی ہو۔

پاکستانی حکام کی تہران آمد اور جاری سفارتی عمل کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ اگرچہ ہم ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ہم کسی حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کی خلیج بہت گہری ہے، خاص طور پر حالیہ چند ماہ کے واقعات کے بعد مذاکرات کا عمل انتہائی سست اور پیچیدہ ہے۔

اسماعیل بقائی نے ایک سوال کے جواب میں تصدیق کی کہ قطر کا ایک وفد بھی تہران میں موجود ہے جس نے وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی ہے۔ خطے اور دنیا کے کئی ممالک جنگ رکوانے کے لیے کوشاں ہیں جن کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں باضابطہ ثالثی کا کردار پاکستان ہی ادا کر رہا ہے۔

آخر میں انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق کہا کہ ایران NPT کا رکن ہے اور پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کا استعمال اس کا قانونی حق ہے، جس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

News ID 1939393

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha